Mother Day(مدد ڈے)
Google Source
" مدر ڈے "آج دنیا بھر میں " ماؤں کا عالمی دن " منایا جا رہا ہے.. ان کی عظمت کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے...اس حوالے سے دنیا بھر کی تمام ماؤں کو سلام ..مدر ڈے, فادر ڈے, اور اس جیسے تمام دن مغرب کی پیداوار ہیں جہاں مائیں اولاد پیدا کرنے کے بعد انہیں میڈز کے حوالے کر دیتی ہیں, جہاں بچے اپنا بچپن ماؤں کے بغیر گزارتے ہیں , جہاں بچوں کو ماں اور ماں کے پیار کی اہمیت کا ادراک ہی نہیں ..جہاں والدین کے بوڑھا ہو جانے کے بعد انہیں اولڈ ہوں میں بھیج دیا جاتا ہے ... تو اس تمام صورتحال کو کور کرنے کے لیے " مدد ڈے " جیسا دن تخلیق کیا گیا تا کہ عمر بھر کی کوتاہیوں کو , غلطیوں کو صرف ایک دن خوبصورت گفٹ کی طرح پیاری ماؤں کی عمر بھر کی محبتوں, قربانیوں کا صلہ بنا کر پیش کر دیا جاۓ...smile emoticon
جبکہ ہم جس مذہب سے وابستہ ہیں وہ تو ہمیں ہر پل, ہر لمحہ ہر دن ماں باپ سے پیار. عقیدت, احترام اور خدمت کا درس دیتا ہے... اسی نے تو ہمیں بتایا کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے, ماں باپ بوڑھے کے آگے اف تک نا کہو... تو ہم کیسے صرف ایک دن میں ماں یا باپ کی محبت, ایثار, قربانی کا بدلہ دے سکتے ہیں.. ؟؟؟اپنے اطراف کا جائزہ لیا تو سمجھ آیا کہ آج ہم کیوں مغرب کے ایجاد کردہ ہر دن کے حامی ہیں, کیوں ہم بھی مدر ڈے انتہائ عقیدت اور احترام سے مناتے ہیں...... ہم اولڈ میں نہیں بھیجتے لیکن گھروں کا ایک کمرہ بوڑھے ماں باپ کی کل کائنات بنا دیتے ہیں , وہ اپنی ہی اولاد کے گھر میں ایک مہمان کی طرح رہ رہتے ہیں...آج کے اس تیز رفتار دور میں وقت کہاں کہ ہم اپنے ماں باپ کے لیے وقت نکال سکیں.. بوڑھے ماں باپ اولاد کا چہرہ ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ جن بچوں کے لیے ہم نے اپنی جوانی تیاگ دی وہ دو گھڑی ہمارے پاس بیٹھے... ہم کیا دے رہے ہیں انہیں ایک احساس تنہائ, ایک احساس زیاں.. احساس کربمغرب کی آندھی تقلید میں صرف ایک دن " ماں " یا " باپ " کے نام کر دینے سے ان کی محبت اور محنت کا حق ادا نہیں ہو جاتا..... خاص طور پر فیس بک پر I love you mom لکھ دینے سے.. جسے شاید ماں کبھی پڑھے گی بھی نہیں..
smile emoticonمدد ڈے .. فادر ڈے.. ضرور منائییے لیکن صرف ایک دن نہیں.. ہر دن ... ہر پل کو ماں باپ کے لیے خاص بنا دیجیے.. ثواب سمجھ کر یا پھر یہ سوچ کر کہ جو آج ان کا ہے کل اس سے بد ترین ہمارا ہوگا...یہ وہ رشتے ہیں جو جب نہیں رہتے تو بہت شدت سے اپنے نا ہونے کا احساس دلاتے ہیں ...موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں.کیا کہوں ہر اک قدم پہ کتنا یاد آتی ہے ماں

Comments
Post a Comment